اورنگزیب واقعی ہندوؤں سے نفرت کرتے تھے؟

مغل بادشاہوں میں صرف ایک شخص انڈیا کی اکثریتی برادری میں مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اس شخص کا نام اورنگزیب عالمگیر تھا۔ انڈین افراد کے درمیان اورنگزیب کی تصویر ایک سخت گیر مذہبی ذہنیت والے بادشاہ کی ہے جو ہندوؤں سے نفرت کرتا تھا اور جس نے اپنے بڑے بھائی دارا شکوہ کو بھی اپنے سیاسی مفاد کے لیے نہیں بخشا۔

علاوہ ازیں اس نے اپنے معمر والد شاہجہاں کو ان کی زندگی کے آخری ساڑھے سات سال تک آگرہ کے قلعے میں قید رکھا۔

پاکستان کے ایک ڈرامہ نگار شاہد ندیم نے لکھا ہے کہ ’تقسیم ہند کے بیج اُسی وقت بو دیے گئے تھے جب اورنگزیب نے اپنے بھائی دارا کو شکست دی تھی۔‘

’انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے بھی سنہ 1946 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ‘ڈسکوری آف انڈیا’ میں اورنگزیب کو ایک مذہبی اور قدامت پسند شخص کے طور پر پیش کیا ہے۔

لیکن حال ہی میں ایک امریکی تاریخ داں آڈرے ٹرسچکی نے اپنی تازہ کتاب ‘اورنگزیب، دا مین اینڈ دا متھ’ میں بتایا ہے کہ یہ خیال غلط ہے کہ اورنگزیب نے مندروں کو اس لیے مسمار کروایا کیونکہ وہ ہندوؤں سے نفرت کرتا تھا۔

ٹرسچکی نیوارک کی رٹجرس یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا کی تاریخ پڑھاتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ اورنگزیب کی اس شبیہ کے لیے انگریزوں کے زمانے کے مؤرخ ذمہ دار ہیں جو انگریزوں کی ’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی کے تحت ہندو مسلم مخاصمت کو فروغ دیتے تھے۔

اس کتاب میں وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ اگر اورنگزیب کی حکمرانی 20 سال کم ہوتی تو جدید مؤرخوں نے ان کا مختلف ڈھنگ سے تجزیہ کیا ہوتا۔

ہندوستان پر 49 سال حکومت

اورنگزیب نے 49 سال تک 15 کروڑ افراد پر حکومت کی۔ ان کے دور میں مغل سلطنت اتنی وسیع ہوئی کہ پہلی بار انھوں نے تقریباً پورے برصغیر کو اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا۔

ٹرسچكی لکھتی ہیں کہ اورنگزیب کو ایک کچی قبر میں مہاراشٹر کے خلدآباد میں دفن کیا گیا جبکہ اس کے برعکس ہمايوں کے لیے دہلی میں لال پتھر کا مقبرہ بنوایا گیا اور شاہ جہاں کو عالیشان تاج محل میں دفنایا گیا۔

ان کے مطابق؛ ’یہ ایک غلط فہمی ہے کہ اورنگزیب نے ہزاروں ہندو منادر توڑے۔ ان کے حکم سے براہ راست چند منادر ہی توڑے گئے۔ ان کے دور حکومت میں ایسا کچھ نہیں ہوا جسے ہندوؤں کا قتل عام کہا جا سکے۔ دراصل، اورنگزیب نے اپنی حکومت میں بہت سے اہم عہدوں پر ہندوؤں کو تعینات کیا۔‘

اورنگزیب نے 49 سال تک 15 کروڑ افراد پر حکومت کی۔ ان کے دور میں مغل سلطنت اتنی وسیع ہوئی کہ پہلی بار انھوں نے تقریباً پورے برصغیر کو اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا۔

ٹرسچكی لکھتی ہیں کہ اورنگزیب کو ایک کچی قبر میں مہاراشٹر کے خلدآباد میں دفن کیا گیا جبکہ اس کے برعکس ہمايوں کے لیے دہلی میں لال پتھر کا مقبرہ بنوایا گیا اور شاہ جہاں کو عالیشان تاج محل میں دفنایا گیا۔

ان کے مطابق؛ ’یہ ایک غلط فہمی ہے کہ اورنگزیب نے ہزاروں ہندو منادر توڑے۔ ان کے حکم سے براہ راست چند منادر ہی توڑے گئے۔ ان کے دور حکومت میں ایسا کچھ نہیں ہوا جسے ہندوؤں کا قتل عام کہا جا سکے۔ دراصل، اورنگزیب نے اپنی حکومت میں بہت سے اہم عہدوں پر ہندوؤں کو تعینات کیا۔‘

اورنگزیب کو ادب سے بہت لگاؤ تھا

اورنگزیب تین نومبر 1618 کو دوہاد میں اپنے دادا جہانگیر کے دور میں پیدا ہوئے۔ وہ شاہجہاں کے تیسرے بیٹے تھے۔ شاہ جہاں کے چار بیٹے تھے اور ان تمام کی ماں ممتاز محل تھیں۔

اسلامی علوم کے علاوہ اورنگزیب نے ترکی ادب کی تعلیم بھی حاصل کی اور خطاطی میں مہارت حاصل کی۔ دوسرے مغل بادشاہوں کی طرح اورنگزیب بھی بچپن سے ہی ہندوی میں فراٹے کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔

کم عمری سے ہی شاہجہاں کے چار بیٹوں میں مغل تخت حاصل کرنے کا مقابلہ تھا۔ مغل وسط ایشیا کے اسی اصول پر یقین رکھتے تھے جس میں تمام بھائیوں کا حکومت پر برابر کا حق تھا۔ شاہجہاں اپنے سب سے بڑے بیٹے دارا شکوہ کو اپنا جانشین بنانا چاہتا تھا، لیکن اورنگزیب کا خیال تھا کہ وہ مغل سلطنت کا سب سے زیادہ قابل وارث ہے۔

آڈری ٹریسچکی نے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے کہ دارا شکوہ کی شادی کے بعد شاہ جہاں نے دو ہاتھی سدھاکر اور صورت سندر کے درمیان ایک مقابلہ کروایا۔ یہ مغلوں کے لیے تفریح کا پسندیدہ ذریعہ تھا۔

اچانک سدھاکر گھوڑے پر سوار اورنگزیب کی طرف غصہ سے بڑھا اورنگزیب نے پھرتی سے سدھاکر کی پیشانی پر نیزے سے وار کیا جس کے نتیجے میں وہ مزید بپھر گیا۔

اس نے گھوڑے کو اتنے زور سے مارا کہ اورنگزیب زمین پر آن گرا۔ عینی شاہدین میں ان کے بھائی شجاع اور راجہ جے سنگھ شامل تھے جنھوں نے اورنگزیب کو بچانے کی کوشش کی لیکن بالآخر دوسرے ہاتھی شیام سندر نے سدھاکر کی توجہ وہاں سے اپنی جانب کھینچ لی۔

شاہجہاں کے درباری شاعر ابو طالب نے اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔

دارا سے دشمنی تھی

ایک دوسرے مؤرخ عقیل خاں رضی نے اپنی کتاب ’واقعات عالمگیری‘ میں لکھا ہے کہ اس پورے مقابلے کے دوران دارا شکوہ پیچھے کھڑے رہے اور انھوں نے اورنگزیب کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

شاہجہاں کے درباری مؤرخ نے بھی اس واقعے کا ذکر کیا ہے اور اس کا موازنہ سنہ 1610 میں ہونے والے اس واقعے سے کیا جب شاہجہاں نے اپنے والد جہانگیر کے سامنے ایک خوفناک شیر کو شکست دی تھی۔

ایک دوسری مؤرخ کیتھرین براؤن نے ’ڈڈ اورنگزیب بین میوزک‘ کے عنوان سے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ اورنگزیب اپنی خالہ سے ملنے برہان پور گئے جہاں ہیرا بائی زین آبادی پر ان کا دل آ گيا۔ ہیرا بائی ایک گلوکار اور رقاصہ تھی۔

اورنگزیب نے ان کو آم کے ایک درخت سے آم توڑتے دیکھا اور ان کے دیوانے ہو گئے۔ عشق اس حد تک پروان چڑھا کہ وہ ہیرا بائی کے کہنے پر زندگی میں شراب نہ پینے کی اپنی قسم کو توڑنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔

لیکن جب اورنگزیب شراب کا گھونٹ لینے ہی والے تھے کہ ہیرا بائی نے انھیں روک دیا۔ لیکن ایک سال بعد ہی ہیرا بائی کی موت ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی ان کی محبت اپنے انجام کو پہنچی۔ ہیرا بائی کو اورنگ آباد میں دفن کیا گيا۔

اگر دارا شکوہ بادشاہ بن جاتے!

ہندوستان کی تاریخ میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اگر سخت گیر اورنگزیب کے بجائے معتدل مزاج دارا شکوہ، چھٹے مغل بادشاہ ہوتے تو کیا ہوتا؟

آڈري ٹرسچكے اس کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہیں: درحقیقت دارا شکوہ مغل سلطنت کو چلانے یا جیتنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ ہندوستان کے تاج کو حاصل کرنے کی جدوجہد میں بیمار بادشاہ کی حمایت کے باوجود دارا شکوہ اورنگزیب کی سیاسی سمجھ اور تیزی کا مقابلہ نہیں کر پائے۔

سنہ 1658 میں اورنگزیب اور ان کے چھوٹے بھائی مراد نے آگرے کے قلعہ کا محاصرہ کر لیا۔ اس وقت ان کے والد شاہجہاں قلعہ میں ہی موجود تھے۔ انھوں نے قلعہ کے پانی کی فراہمی روک دی۔

کچھ ہی دنوں میں شاہجہاں نے قلعہ کا دروازہ کھول کر اپنے خزانے، ہتھیاروں اور اپنے آپ کو اپنے دونوں بیٹوں کے حوالے کر دیا۔

اپنی بیٹی کو ثالث بناتے ہوئے شاہجہاں نے اپنی سلطنت کو پانچ حصوں میں تقسیم کرنے کی آخری پیشکش کی جسے چار بھائیوں اور اورنگزیب کے سب سے بڑے بیٹے محمد سلطان کے درمیان تقسیم کیا جا سکے لیکن اورنگزیب نے اسے قبول نہیں کیا۔

جب 1659 میں دارا شکوہ کو اس کے ایک قابل اعتماد ساتھی ملک جیون نے پکڑوا کر دہلی بھجوایا تو اورنگزیب نے انھیں اور ان کے 14 سالہ بیٹے سفر شكوه کو ستمبر کی امس بھری گرمی میں چیتھڑوں میں لپٹا کر خارش کی بیماری سے دوچار ہاتھی پر بٹھا کر دہلی کی سڑکوں پر پھرایا۔

ان کے پیچھے ننگی تلوار لیے ایک سپاہی چل رہا تھا، تاکہ اگر وہ بھاگنے کی کوشش کریں تو ان کا سر قلم کر دیا جائے۔ اس وقت ہندوستان کا سفر کرنے والے اطالوی مؤرخ نکولائی مانوچی نے اپنی کتاب ‘سٹوريا دو موگور’ میں لکھا ہے: ‘دارا کی موت کے دن اورنگزیب نے ان سے پوچھا تھا کہ اگر ان کے کردار تبدیل ہو جائیں تو وہ ان کے ساتھ کیا کریں گے؟ دارا نے جواب دیا تھا کہ وہ اورنگ زیب کے جسم کو چار حصوں میں کٹوا کر دلی کے چار اہم دروازوں پر لٹكوا دیں گے۔

اورنگزیب نے ہمایوں کی قبر کے ساتھ اپنے بھائی کو دفن کروایا۔ لیکن بعد میں اسی اورنگزیب نے اپنی بیٹی زیب النسا کی شادی دارا شكوه کے بیٹے سفر شكوه سے کی تھی۔

اورنگزیب نے اپنے باپ شاہ جہاں کو ان کی زندگی کے آخری ساڑھے سات سالوں تک آگرہ کے قلعہ میں قید رکھا جہاں اکثر ان کا ساتھ ان کی بڑی بیٹی جہاں آرا دیا کرتی تھی۔ اس کا سب سے بڑا نقصان اورنگزیب کو اس وقت ہوا جب مکہ کے شریف نے اورنگزیب کو ہندوستان کا باضابطہ حکمران ماننے سے انکار کر دیا اور کئی سالوں تک ان کے تحائف لینے سے انکار کرتے رہے۔

بابا جی دھن دھن

اورنگزیب سنہ 1679 میں دہلی کو چھوڑ کر جنوبی ہند منتقل ہو گئے اور پھر کبھی شمالی ہند واپس نہیں آ سکے۔ ان کے ساتھ ہزاروں لوگوں کا قافلہ بھی جنوب کے لیے روانہ ہوا جس میں شہزادہ اکبر کو چھوڑ کر ان کے تمام بیٹے اور ان کا پورا حرم شامل تھا۔

ان کی غیر موجودگی میں دہلی ایک آسیب زدہ شہر نظر آنے لگا اور لال قلعہ کے کمروں میں اتنی دھول چھا گئی کہ غیر ملکی مہمانوں کو اسے دکھانے سے بچایا جانے لگا۔

اورنگزیب اپنی کتاب ‘رقعات عالمگیری’ میں لکھا ہے کہ جنوب میں انھیں سب سے زیادہ آم کی کمی محسوس ہوتی تھی۔ بابر سے لے کر تمام مغل بادشاہوں کو آم بہت پسند تھا۔ ٹرسچکی لکھتی ہیں کہ اورنگزیب اکثر اپنے حکام سے شمالی ہند کے آم بھیجنے کی فرمائش کرتے۔ انھوں نے کچھ آموں کو بھی سدھا رس اور رسنا بلاس جیسے ہندی نام بھی رکھے۔

سنہ 1700 میں اپنے بیٹے شہزادے اعظم کو لکھے ایک خط میں اورنگ زیب نے انھیں ان کے بچپن کی یاد دلائی جب انھوں نے نگاڑے بجنے کی نقل کرتے ہوئے اورنگ زیب کے لیے ایک ہندی خطاب کا استعمال کیا تھا، ‘باباجي دھن، دھن’۔

اپنے آخری دنوں میں اورنگزیب اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کامبخش کی والدہ ادے پوری کے ساتھ رہے جو کہ ایک گلوکارہ تھی۔ بستر مرگ سے كامبخش کو ایک خط میں اورنگزیب نے لکھا کہ ان کی بیماری میں ادے پوری ان کے ساتھ رہ رہی ہیں اور ان کی موت میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی۔

اور اورنگزیب کی موت کے چند مہینے بعد ہی سنہ 1707 کی گرمیوں میں ادے پوری کی بھی موت ہو گئي۔

 

Courtesy: BBC Urdu

Share

Rana Tanveer

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *