religionobserver

“ There is no religion that teaches anger or hatred "

- Dalai Lama

احمدی ہم جنس پرست سابق رکن پارلیمنٹ کو جنسی زیادتی کے جرم میں 18 ماہ قید کی سزا

مجھے نہیں لگتا کہ آپ کواپنے کئے کا پچھتاوا ہے، بلکہ آپ کو افسوس صرف اس نقصان کا ہے جو اپنے اعمال کے نتیجے میں بھگت رہے ہیں: جج

 

برطانیہ کے سابق رکن پارلیمنٹ عمران احمد خان، جو کہ ہم جنس پرست اور مذہب کے اعتبار سے ایک احمدی ہیں، کو 2008 میں ایک پارٹی میں ایک 15 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے الزام میں 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عمران خان کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا اور بعد میں ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے بعد گزشتہ ماہ سزا سنائے جانے کے بعد انہوں نے کامنز سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
جج، مسٹر جسٹس بیکر نے کہا کہ خان کو 18 ماہ، ”نصف حراست میں، باقی مدت کے لیے لائسنس پر رہا کیا جائے گا، اگروہ مزید جرم کا ارتکاب کریں تویہ رعایت واپس لی جائے گی۔
بیکر نے کہا کہ سزا کا معمول کا نقطہ آغاز دو سے چار سال کی حراست کے درمیان ہوگا۔ اس کی سزا میں شکایت کنندہ کو پہنچنے والے نفسیاتی نقصان اور اس کی کمزوری کو مدنظر رکھا گیا۔
اس نے کہا: ‘مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو کوئی کوئی پچھتاوا ہے، بلکہ آپ کو صرف افسوس ہے کہ آپ اپنے آپ کو اپنے اعمال کے نتیجے میں مشکل میں پڑ گئے ‘۔’
جج نے سابقہ سزاؤں کی عدم موجودگی کی روشنی میں کم سزا سنائی۔ اس نے تسلیم کیا کہ شاید اسے شکایت
کنندہ کی عمر کا علم نہیں تھا، اور اس نے خان کی خراب صحت اور اپنی بوڑھی ماں کے لیے واحد محافظ ہونے پر یہ رعایت دی۔
واقعات کی تفصیل بتاتے ہوئے جج نے کہا کہ یہ جرم اس وقت ہوا جب خان کی عمر 34 سال تھی، 8 جنوری 2008 کو رات گئے شکایت کنندہ کے بیڈ روم میں موجود تھا، جب وہ ایک پارٹی کے بعد خاندان کے گھر میں رات گزار رہے تھے۔
انہوں نے نوٹ کہا کہ خاندان نے ان پر اعتماد کیا۔اس نے بتایا کہ کس طرح خان کو 15 سالہ نوجوان اور اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ ایک بیڈ روم شیئر کرنے کی اجازت دی گئی، جہاں اس نے لڑکے کو جن اور ٹانک زبرردستی پینے پر مجبور کیا، اور اسے فحش فلم دیکھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ لڑکے نے انکار کر دیا اور اپنی چارپائی پر چڑھ گیا جہاں خان بھی اس کے پیچھے پہنچ گیا اور زبر دستی کرنے لگا۔
شکایت کنندہ اپنے والدین کے سونے کے کمرے کی طرف بھاگ گیا۔
جج نے خان کے کیو سی (کوئینز کونسل) گڈرون ینگ کی جانب سے معطل سزا کی درخواست کو مسترد کر دیا، جس نے استدلال کیا کہ اسے پہلے ہی کیس کی ہائی پروفائل نوعیت کی وجہ سے سزا مل چکی ہے، جس نے ان کی زندگی اور ساکھ کو ”برباد کر دیا”۔
خان نے دعویٰ کیا کہ اس نے کیتھولک نوجوان کی کہنی کو صرف اس وقت چھوا جب وہ اپنی الجھن زدہ جنسیت کے بارے میں بات چیت کے بعد ’انتہائی پریشان‘ ہو گیا۔
خان کے انتخابات کے بعد جماعت احمدیہ برطانیہ نے خان کو مبارکباد دی تھی۔ اس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل – @AhmadiyyaUK – نے 13 دسمبر 2019 کو کہا، ” @imranahmadkhan کو ویک فیلڈ کے ممبر پارلیمنٹ بننے پر مبارکباد، نیک تمنائیں اور پرامن دنیا کی تعمیر میں کامیابی کے لیے دعائیں۔ عمران احمد خان برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے والے احمدیہ مسلم کمیونٹی کے پہلے رکن ہیں۔ خان کو سزا سنائے جانے کے بعد سے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا گیا
ہے اور جماعتی حلقوں میں عمران احمد خان کے معاملے سمیت جماعت کے حالیہ منظر عام پر آنے والے متعدد ہ جنسی حراسانی کے معاملات پر مکمل خاموشی ہے۔
خان کے والد کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے تھا اور وہ انگلینڈ چلے گئے تھے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Latest News

اردو ہیڈ لائینز