religionobserver

احمدیہ سیکس سکینڈل سے متعلقہ آڈیو ریکارڈنگز کی آمد کا سلسلہ جاری

گزشتہ برس ایک آڈیو کال کے اچانک منظر عام پر آنے سے شروع ہونے والا احمدیہ سیکس سکینڈل جسے لندن میٹروپولیٹن پولیس نے تاریخی ریپ الزامات کا نام دیا ہے ابھی تک آڈیو کالز کی آمدکی زد میں ہے ۔ اس سلسلہ میں حالیہ منظر عام پر آنے والی آڈیو کال کا تعلق مبینہ طور پر سید نصیر احمد سے ہے جواحمدی ٹی وی چینل ایم ٹی اے انٹر نیشنل کے سابق ڈائیریکٹراور انگلینڈ میں مقیم ہیں ۔

ان آ ڈیو کالز کا منظر عام پر آنے کا سلسلہ احمدیہ کمیونٹی کے موجودہ سربراہ مرزا مسرور احمد اور کمیونٹی کے سابق سربراہ کی نواسی ندا النصر کے مابین ہونے والی چوالیس منٹ کی بات چیت سے گزشتہ برس دسمبر کی گیارہ تاریخ کو شروع ہوا ۔ اس کے بعد ندا النصر نے آڈیو میسجز ٹویٹر پر لگانا شروع کیے جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔ ندا ان میسجز میں جماعت احمدیہ کے اندر ہونے والی مبینہ نا انصافیوں ، مظلوم کو خاموش کروانے، اور اقربا پروری کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ جماعت کی اعلیٰ قیادت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ بظاہر طور پر ندا کی کردار کشی کرنے اور اسے چپ کروانے کے لیے انتیس جنوری کو ندا اور نصیر شاہ کی کال لیک کی گئی جو چوبیس منٹ کی مکمل کال میں سے ان مخصوص حصوں کو جوڑ کر آٹھ منٹ کی بنائی گئی تھی جس سے عام احمدی کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ ندا ایک بد کردار عورت ہے ۔ مگر اس سے کچھ ہی دنوں کے بعد تین فروری کو چوبیس منٹ کی مکمل آڈیو لیک ہوگئی جس میں مبینہ طور پر نصیر شاہ ندا کو اس بات پر قائل کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ وہ ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کو اپنی مبینہ زیادتی کا بتائے تاکے یہ معاملہ زبان زد عام ہو اور اسے انصاف ملنے میں مدد ملے ۔

انتیس جنوری کو ہی ندا النصر نے ٹویٹر آڈیو میسج کے ذریعے اس آڈیو کال کے درست ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ نصریر شاہ سے کسی مصلحت کے تحت کچھ معلومات نکلوانے کے لیے کال کر رہی تھی ۔

قارئین ندا کے اس میسج کی آڈیو ریکارڈنگ یہاں سن سکتے ہیں :

حال ہی میں ایک آڈیو میسج منظر عام پر آیاہے جو مبینہ طور پر نصیر شاہ کا ہے اور وہ اس ریکارڈنگ میں خود سے منسلک پہلی کال کو ڈیجیٹل ایڈیٹنگ،آواز کی کلوننگ، اور آواز کے مجرمانہ غلط استعمال پر مبنی قرار دیتے سنے جا سکتے ہیں ۔ اس میسج میں انکا کہنا ہے کہ یہ انکی ذاتی زندگی پر حملہ کے علاوہ جماعت احمدیہ کے نظام کے لیے بھی بدنامی کا باعث ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی آڈیوز جان بوجھ کر لیک کی جا رہی ہیں مگر بجائے ایسے عوامل کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کے نصیر شاہ کہتے ہیں کہ ان لیک کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ عدالت میں جائیں اور میرے خلاف یہ الزامات ثابت کریں ۔

قارئین نصیر شاہ کی آڈیو ریکارڈنگ یہاں سن سکتے ہیں :

 

اس سلسلہ میں ریلیجن آبزرور نے نصیر شاہ سے ان کے فون پر واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور میسج چھوڑے مگر کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔ جماعت احمدیہ کے لندن میں موجود ذراءع کا کہنا ہے کہ نصیر شاہ اور احمدیہ کمیونٹی کے سربراہ کے برادر نسبتی قاسم شاہ کے درمیان بڑی گہری رشتہ داری تھی جو کچھ سال پہلے ٹوٹ چکی ہے جس وجہ سے دونوں فیملیز میں کشمکش رہتی ہے اور گاہے بگاہے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ نصیر شاہ کا ندا کو سوشل میڈیا انفلوئنسر سے رابطہ کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کرنا بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھی ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نصیر شاہ کو ایم ٹی اے کے ڈائیریکٹر کے عہدہ سے اس لیئے ہٹایا گیا تھا کہ اس نے ندا النصر اورکمیونٹی کے سربراہ کی کال جان بوجھ کر لیک کی تھی ۔ مگر سید نصیر شاہ اپنے وکیل کے ذریعے ایک بیان میں اس الزام کو رد کر چکے ہیں اور ان کا ہے کہ انکو ڈائیریکٹر کے عہدہ سے آڈیو لیک کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک ایگزیکٹو تبدیلی کے سلسلہ میں ہٹایا گیا تھا ۔ ملاحظہ ہو نصیر شاہ کا لیٹر:

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published.