religionobserver

امریکی عدالت نے احمدی رہنما کو بچے سے زیادتی کے جرم میں سیکس آفینڈر قرار دے دیا

منیب کو مارچ 2018 اور مارچ 2020 کے درمیان اپنی جماعت کے ایک لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ مجرم معتمد خدام اور ایک استاد کے طور پر کام کر رہا تھا۔

 

اسے ساڑھے چھ سال قید کی سزا سنانے کے علاوہ، ایک امریکی عدالت نے احمدی رہنما کو ٹیکساس کوڈ آف کریمنل پروسیجر کے باب 62 کے مطابق سیکس آفینڈر کے طور پر رجسٹر کرنے کا حکم دیا ہے۔

ڈینٹن کاؤنٹی کی عدالت کی جج شیری شپ مین نے انہیں یہ سزا 5 اگست کواس وقت سنائی جب جنسی مجرم احمدی رہنما اور استاد منیب الرحمان نے مارچ 2018 سے مارچ 2020 کے درمیان مختلف مواقع پر اپنی جماعت کے ایک 14 سالہ لڑکے کو بار بار ریپ کرنے کے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔

منیب کے جنسی مجرم کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کا مطلب ہے کہ اسے کسی ایسی رہائش گاہ کے 1000 فٹ کے اندر رہنے سے منع کیا جائے گا جہاں نابالغ بچے رہتے ہیں۔ اسے ڈے کیئر، کھیل کے میدان، یوتھ سنٹر، اسکول یا پارک کے قریبی گھر میں جانے پر بھی پابندی ہوگی۔ ٹیکساس کے قوانین کے تحت، اگر کوئی سزا یافتہ جنسی مجرم ایسے قوانین یا ان کی نگرانی کی دیگر شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسے اور بھی زیادہ سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون کسی بھی مالک مکان کو اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر جنسی مجرم کو ایسی جگہ کے 1,000 فٹ کے اندر رہائش گاہ کرائے پر دیں جہاں بچے جمع ہوں۔

منیب کو چھ الزامات میں سزا سنائی گئی تھی، جن میں ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے تین الزامات اور جنسی تعلق کے ذریعے بچے کے ساتھ بے حیائی کے تین الزامات شامل تھے۔ منیب کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات ہیرس کاؤنٹی میں زیر التوا ہیں جہاں منیب رعایتی سزا پانے کے لیے بھی جرم قبول کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

یہ جرائم مارچ 2018 اور مارچ 2020 کے درمیان اس وقت ہوئے جب مجرم ٹیکساس کے شہر ڈیلاس کی احمدی بیت الاکرام مسجد میں سات سے 15 سال کی عمر کے لڑکوں کی نگرانی کے لیے جماعت احمدیہ کیطرف سے ذمہ داری دی گئی۔

اسے 11 مئی 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا، اور بعد میں 100,000 ڈالر کے ضمانتی مچلکے پیش کرنے کے بعد اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ عدالت میں پیش نہ ہونے پر اس کی ضمانت منسوخ کر دی گئی اور ضمانتی مچلکے ضبط کر لیے گئے اور اسے مفرور قرار دے دیا گیا۔ بعد میں اسے گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ ایک ضلعی عدالت نے اسے 13 جون کو 30 لاکھ ڈالر کے ضمانتی مچلکے پر ضمانت دی تھی لیکن وہ  ضمانتی مچلکے جمع نہ کروا سکا۔ کولن اور ہیرس کاؤنٹیز میں اس کا ٹرائل بعد میں شروع ہوگا۔ اس کا تعلق کینیڈا سے ہے اور اس کا پاسپورٹ پولیس کی تحویل میں ہے۔سزا پوری ہونے پر اسے امریکہ سے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔

کم از کم 11مختلف مواقع پر منیب نے لڑکے کے ساتھ اپنے اپارٹمنٹ میں، کار، اور کمیونٹی تقریبات کے دوران جنسی ذیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس دوران، متاثرہ لڑکے کو 21 جولائی 2019 کو ناظم اطفال (سات سے 15 سال کی عمر کے لڑکوں کا سربراہ) مقرر کیا گیا تھا، جب کہوہ  مجرم کی فوری نگرانی میں تھا جب وہ معتمد خدام کے طور پر تعینات تھا۔

گرومنگ اور جنسی زیادتی کے بارے میں جاننے کے بعد، متاثرہ لڑکے کے خاندان نے پولیس سے شکایت کی اور منیب کو 11 مئی 2020 کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں اسے موتم خدام کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ منیب کو 2017 کے موسم خزاں میں معتمد خدام کے طور پر تعینات کیا گیا تھا جب کہ اسے موسم خزاں 2019 میں سنڈے اسکول کی کلاسز پڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور مئی 2020 میں ان کی گرفتاری تک ان کرداروں پر کام جاری رکھا۔

احمدیہ کمیونٹی کے سربراہ کا ڈیلاس کا دورہ

جماعت احمدیہ کے مرکزی رہنما مرزامسرور ر احمد جو کہ برطانیہ میں مقیم ہیں اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ڈیلاس شہر کا دورہ کرنے والے ہیں۔ امریکی احمدیہ کمیونٹی میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ رہنما متاثرہ خاندان سے ان کی شکایات کے ازالے کے لیے ملاقات کریں گے تاہم جب ریلیجن آبزرور  کی جانب سے رابطہ کیا گیا تو متاثرہ لڑکے کے والد نے بتایا کہ ابھی تک جماعت کے کسی فرد نے ان سے اس سلسلے میں کوئی رابطہ نہیں کیا۔

امریکی جماعت اپنے قائد کی آمد کے لیے متبادل بجلی کی فراہمی کا انتظام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں ایک پرائیویٹ کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں جو کہ انتظامات کر رہی ہے۔ میری لینڈ میں رہنے والے ایک احمدی کا کہنا ہے کہ ان انتظامات کی وجہ سے، ان مساجد میں پچھلے جمعہ کی نماز نہیں ہو سکتی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، انہوں نے کہا کہ بجلی کے متبادل انتظامات کرنے کے لیے بھاری رقم خرچ کی جا رہی ہے یہاں تک کہ امریکہ میں بجلی کے تعطل کا کوئی امکان بھی نہیں ہے۔

Share

One thought on “امریکی عدالت نے احمدی رہنما کو بچے سے زیادتی کے جرم میں سیکس آفینڈر قرار دے دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published.